iran drone

آبنائے ہرمز میں مبینہ امریکی ڈرون کا معاملہ، ایران کے دعوے پر واشنگٹن کی سخت تردید

تہران: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ )آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان ایک مبینہ امریکی زیرِ آب ڈرون کے معاملے نے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اور نیا پہلو شامل کردیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری فورسز نے ایک امریکی بغیر پائلٹ زیرِ آب گاڑی قبضے میں لے لی ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اس دعوے کی واضح تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج اپنے تمام آپریشنل ڈرون اثاثوں پر مکمل کنٹرول برقرار رکھتی ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس کے مطابق مبینہ امریکی زیرِ آب گاڑی کو آبنائے ہرمز میں ایک انٹیلی جنس اور الیکٹرانک وارفیئر آپریشن کے دوران روکا گیا۔ ایرانی حکام نے اس نظام کی شناخت REMUS 600 کے طور پر کی ہے۔ ایرانی بیان کے مطابق یہ گاڑی اب ایرانی ماہرین کے پاس ہے جو اس سے حاصل ہونے والی معلومات اور ڈیٹا کا جائزہ لیں گے۔

ایرانی دعوے کے مطابق زیرِ آب گاڑی مبینہ طور پر نگرانی یا انٹیلی جنس سرگرمی میں مصروف تھی۔ REMUS 600 ایک خودکار زیرِ آب گاڑی ہے جسے نگرانی، سمندری تہہ کی نقشہ سازی، مائن کاؤنٹر میژرز اور زیرِ آب معائنے جیسے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس نظام کو تقریباً 600 میٹر تک گہرائی میں آپریشن کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی دعوے کو مسترد کردیا۔ سینٹکام کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے الجزیرہ کو بتایا کہ امریکی فوج اپنے تمام آپریشنل ڈرون اثاثوں پر مثبت اور مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔ انہوں نے ایرانی دعوے کو ’’واضح طور پر مایوسی پر مبنی‘‘ قرار دیا۔ اس طرح واشنگٹن کے مطابق کسی امریکی آپریشنل ڈرون کے ایران کے قبضے میں جانے کی تصدیق نہیں ہوتی۔

اس معاملے میں فی الحال دونوں ممالک کے بیانات میں واضح تضاد موجود ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس نے امریکی زیرِ آب گاڑی کو کارروائی کے ذریعے اپنے قبضے میں لیا، جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ اس کے تمام آپریشنل ڈرون اثاثے اس کے کنٹرول میں ہیں۔ آزاد ذرائع سے ابھی تک ایرانی دعوے کی ایسی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی جس سے یہ حتمی طور پر ثابت ہو سکے کہ امریکی REMUS 600 واقعی ایران کے قبضے میں آیا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اہم مرکز بنی ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں آبنائے سے گزرنے والی تجارتی جہاز رانی میں نمایاں کمی رپورٹ ہوئی ہے اور خطے میں بحری سلامتی کے خدشات بھی برقرار ہیں۔ رائٹرز کے مطابق 21 ستمبر کو صرف دو بڑے کمرشل جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ تنازع سے قبل روزانہ اوسطاً تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے حالیہ دنوں میں امریکی زیرِ آب نظام کے بارے میں یہ دوسرا دعویٰ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ یورونیوز کے مطابق اس سے قبل ایرانی فورسز نے ایک اور خودکار زیرِ آب گاڑی، جسے Dive-LD قرار دیا گیا، آبنائے ہرمز کے داخلی علاقے کے قریب روکنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس واقعے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ REMUS 600 جیسے خودکار زیرِ آب نظام سمندری نگرانی اور انٹیلی جنس سے متعلق مختلف کاموں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں اصل دعوے اور اس کی آزادانہ تصدیق کے درمیان فرق برقرار ہے۔ اس لیے واقعے کو حتمی طور پر امریکی ڈرون کے ایران کے قبضے میں جانے کے طور پر بیان کرنے کے بجائے اسے ایران کے دعوے اور امریکی تردید کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔

عوامی رائے

آبنائے ہرمز میں کسی بھی زیرِ آب یا بحری ڈرون کے معاملے کو خطے کی پہلے سے موجود کشیدگی کے باعث خاص توجہ حاصل ہونا فطری ہے۔ تاہم حتمی رائے قائم کرنے کے لیے مزید قابلِ اعتماد شواہد اور آزادانہ تصدیق سامنے آنا اہم ہوگا۔

ماہرین کی رائے
دفاعی اور بحری امور کے ماہرین کے لیے ایسے واقعات میں سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ زیرِ آب گاڑی کی اصل شناخت، ملکیت، آپریشنل حیثیت اور واقعے کے مقام کی آزادانہ طور پر تصدیق کیسے ہوتی ہے۔ موجودہ معاملے میں دونوں فریقوں کے متضاد بیانات کے باعث یہ تمام پہلو ابھی واضح نہیں ہوئے۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی نئے عسکری یا انٹیلی جنس واقعے کی خبر نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ عالمی بحری تجارت کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ موجودہ معاملے میں مزید شواہد سامنے آنے تک دونوں فریقوں کے مؤقف کو الگ الگ اور واضح طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔

فی الحال دستیاب معلومات میں ایک طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا قبضے کا دعویٰ ہے اور دوسری طرف امریکی سینٹکام کی واضح تردید۔ اس لیے واقعے کی حتمی حقیقت کے بارے میں فیصلہ کن نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے مزید آزادانہ شواہد کا انتظار ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں