اکثر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ مریض کے مرنے کے بعد بھی ہسپتال اسے وینٹیلیٹر پر رکھ کر کئی دنوں کا بل بنا لیتے ہیں۔ یہ الزام بظاہر چونکا دینے والا ضرور ہے، مگر طبی اور سائنسی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مکمل موت کے بعد کسی انسان کو وینٹیلیٹر پر رکھنا ممکن ہی نہیں، کیونکہ وینٹیلیٹر کا کام صرف سانس لینے میں مدد دینا ہوتا ہے، زندگی پیدا کرنا نہیں۔
وینٹیلیٹر نہ تو دل کو چلا سکتا ہے، نہ دماغ کو زندہ رکھ سکتا ہے اور نہ ہی مرے ہوئے جسم کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ اگر دل مستقل طور پر بند ہو جائے اور خون کی گردش رک جائے تو وینٹیلیٹر مکمل طور پر بے اثر ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ تصور کہ مشینوں کے ذریعے مکمل طور پر مرے ہوئے انسان کو زندہ دکھایا جا سکتا ہے، سائنسی طور پر غلط ہے۔
اصل کنفیوژن زیادہ تر برین ڈیتھ کے تصور سے پیدا ہوتی ہے۔ برین ڈیتھ کی حالت میں دماغ مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہوتا ہے۔ مریض میں نہ ہوش ہوتا ہے، نہ درد کا احساس، نہ شعور، اور طبی و قانونی طور پر ایسے مریض کو مردہ قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم دل مشینوں کی مدد سے دھڑک رہا ہوتا ہے، جسم گرم محسوس ہوتا ہے اور سانس وینٹیلیٹر دے رہا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی کو لگتا ہے کہ مریض زندہ ہے۔
حقیقت میں یہ زندگی نہیں بلکہ ایک ایسا جسمانی نظام ہوتا ہے جو صرف مشینوں کے سہارے چل رہا ہوتا ہے۔ اس حالت میں مریض کو کچھ عرصے کے لیے وینٹیلیٹر پر رکھا جا سکتا ہے، مگر طبی اعتبار سے اسے زندہ انسان نہیں کہا جاتا۔ یہی نکتہ زیادہ تر غلط فہمیوں کی بنیاد بنتا ہے۔
جب مکمل موت واقع ہو جاتی ہے، یعنی دل، دماغ اور خون کی گردش سب بند ہو جائیں، تو لاش چند گھنٹوں میں ٹھنڈی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد جسم میں سختی آتی ہے، رنگت بدلتی ہے اور بارہ سے چوبیس گھنٹوں کے اندر بدبو کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ پیٹ میں گیس بنتی ہے اور جلد خراب ہونے لگتی ہے۔
دو سے تین دن کے اندر لاش میں شدید بدبو، سوجن اور گلنے سڑنے کے واضح آثار پیدا ہو جاتے ہیں، خاص طور پر اگر لاش کو مردہ خانے کے فریج میں محفوظ نہ کیا گیا ہو۔ وینٹیلیٹر ان قدرتی مراحل میں سے کسی کو بھی روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
لاش کو محفوظ رکھنے کے لیے فریج یا ایمبالمنگ جیسے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، وینٹیلیٹر کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے یہ خیال درست نہیں کہ وینٹیلیٹر سے جڑا جسم کئی دنوں تک تازہ رہتا ہے یا اس میں بدبو نہیں آتی۔
ہسپتالوں پر لگنے والے اکثر الزامات کی وجہ اہلِ خانہ کا جذباتی صدمہ، برین ڈیتھ کی درست سمجھ کا نہ ہونا اور سوشل میڈیا پر پھیلی غلط یا نامکمل معلومات ہوتی ہیں۔ اگرچہ بعض جگہ انتظامی یا اخلاقی مسائل موجود ہو سکتے ہیں، مگر سائنسی اور طبی لحاظ سے یہ ناممکن ہے کہ مکمل طور پر مرے ہوئے انسان کو دنوں تک وینٹیلیٹر پر “زندہ” رکھا جائے۔
یہ ایک حساس موضوع ہے، جس پر بات کرتے وقت جذبات کے بجائے حقائق کو سامنے رکھنا ضروری ہے، تاکہ معاشرے میں پھیلتی ہوئی غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو اور عوام کو درست طبی معلومات فراہم کی جا سکیں۔











