واشنگٹن/شیکاگو (سائنس ڈیسک) ⋄ خلائی سائنس کی دنیا میں ایک سنسنی خیز پیش رفت ہوئی ہے جب ناسا کی طاقتور جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ایک ایسے غیر معمولی سیارے کو دریافت کیا جو اپنی انوکھی لیموں نما شکل اور عجیب و غریب ماحول کی وجہ سے ماہرین کو حیران کر رہا ہے۔ یونیورسٹی آف شیکاگو کی قیادت میں کی گئی یہ تحقیق رواں ہفتے مشہور جریدے ’دی آسٹروفزیکل جرنل لیٹرز‘ میں شائع ہوئی، جس میں اس نئے سیارے کو PSR J2322-2650b کا نام دیا گیا۔
یہ سیارہ اپنے میزبان ستارے سے محض دس لاکھ میل کے انتہائی قریب فاصلے پر مدار میں چکر لگاتا ہے، جو زمین اور سورج کے درمیان فاصلے کا تقریباً سو گنا کم ہے۔ نتیجتاً اس کا ایک مکمل مدار، یعنی ایک سال، صرف 7.8 گھنٹوں میں پورا ہو جاتا ہے۔ سیارے کا میزبان ایک پلسر ہے، جو تیزی سے گھومنے والا نیوٹرون ستارہ ہے اور اس کی شدید کششِ ثقل نے سیارے کو بیضوی یا لیموں جیسی شکل دے دی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ اپنی غیر معمولی خصوصیات کی بنا پر ستاروں اور سیاروں کے درمیان واضح فرق کو مبہم بنا دیتا ہے۔
تحقیق کے مطابق PSR J2322-2650b کا ماحول ہیلیئم اور کاربن کی بھاری مقدار سے بھرا ہوا ہے، جہاں بہت تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ یہ ماحول پہلے کبھی دیکھے گئے کسی بھی سیارے سے بالکل مختلف ہے، جس میں کاربن کے بادلوں سے ممکنہ طور پر ہیروں کی بارش بھی ہو سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف شیکاگو کے مرکزی محقق مائیکل ژانگ نے کہا کہ یہ دریافت بالکل غیر متوقع تھی اور ہماری سیاروی تشکیل کے موجودہ ماڈلز کو چیلنج کرتی ہے۔



عوامی اور سوشل میڈیا ردعمل
یہ خبر منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ ٹوئٹر (X) پر #LemonPlanet اور #PSRJ2322 ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا: ”لیموں کی شکل کا سیارہ؟ کائنات واقعی حیران کن ہے، جیمز ویب نے تو کمال کر دیا!“ ایک اور نے مزاحاً کہا: ”اب تو خلائی سفر پر لیمونیڈ پینے کا پلان بنائیں!“ بہت سے لوگ اسے سائنس فکشن سے حقیقت کی طرف منتقل ہونے والا لمحہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ نے دریافت کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے پرجوش تبصرے کیے۔ مجموعی طور پر عوام میں جوش و خروش غالب ہے اور لوگ اسے کائنات کی لامتناہی تنوع کی علامت سمجھ رہے ہیں۔
یہ دریافت خلائی سائنس کے لیے ایک سنگِ میل ہے کیونکہ PSR J2322-2650b نہ صرف اپنی شکل بلکہ ماحول کی ساخت کی وجہ سے بھی منفرد ہے۔ پلسر کے گرد گھومنے والا یہ پہلا گیس دیو سیارہ ہے جس کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا، اور اس کی کاربن غالب فضا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ یہ سیارہ ممکنہ طور پر ایک "بلیک وڈو” نظام کا حصہ ہے جہاں پلسر اپنے ساتھی کو آہستہ آہستہ کھا جاتا ہے، مگر یہاں سیارہ اب بھی زندہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دریافت سیاروں کی تشکیل، انتہائی ماحول اور کائنات کی انتہائی حالات میں زندگی کی امکانات پر نئی بحث چھیڑے گی۔ جیمز ویب کی یہ صلاحیت کہ وہ پلسر کی روشنی کو نظر انداز کر کے سیارے کا خالص سپیکٹرم حاصل کر سکتی ہے، مستقبل میں مزید حیران کن انکشافات کا دروازہ کھولے گی۔
یہ لیموں نما سیارہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کائنات ابھی بہت سے راز چھپائے بیٹھی ہے۔ آپ کو یہ عجیب و غریب دریافت کیسی لگی؟ کیا یہ کائنات کی تنوع کی خوبصورت مثال ہے یا کچھ خوفناک؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!
















