بنگلا دیش کے 2024 کے تاریخی طلبہ احتجاج کے ایک اہم رہنما، شریف عثمان ہادی (32 سالہ)، جو انقلاب منچ کے سینئر لیڈر اور ترجمان تھے، 18 دسمبر 2025 کو سنگاپور میں علاج کے دوران انتقال کر گئے۔ ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ شدید زخموں سے نجات نہ پا سکے۔
یہ سانحہ 12 دسمبر کو ڈھاکا میں پیش آیا جب موٹرسائیکل سوار نامعلوم حملہ آوروں نے انہیں سر پر گولی ماری۔ وہ ایک آٹو رکشہ میں سفر کر رہے تھے اور آئندہ فروری میں ہونے والے قومی انتخابات میں ڈھاکا-8 حلقے سے ممکنہ امیدوار تھے۔ زخمی ہونے کے فوراً بعد انہیں ڈھاکا میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں دماغ شدید متاثر ہونے کی وجہ سے 15 دسمبر کو مزید علاج کے لیے سنگاپور جنرل ہسپتال کے نیورو سرجری آئی سی یو میں داخل کیا گیا۔
عثمان ہادی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ (جو اب خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں) اور بھارت کی پالیسیوں کے سخت ناقد تھے۔ انقلاب منچ نے ان کی وفات پر فیس بک پوسٹ میں کہا کہ "ہندوستانی بالادستی کے خلاف جدوجہد میں اللہ نے عظیم انقلابی عثمان ہادی کو شہید قبول کر لیا۔”
وفات کی خبر پھیلتے ہی ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ڈھاکا سمیت متعدد شہروں میں شدید احتجاج پھوٹ پڑے، جن میں اخبارات کے دفاتر (جیسے پروٹھوم الو اور ڈیلی سٹار) کو آگ لگائی گئی، توڑ پھوڑ کی گئی اور پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے انصاف کا مطالبہ کیا اور کچھ جگہوں پر انسدادِ ہندوستانی نعرے بھی بلند ہوئے۔
پولیس نے حملہ آوروں کی تلاش تیز کر دی ہے۔ دو مرکزی مشتبہ افراد کی تصاویر جاری کی گئیں اور گرفتاری پر پانچ لاکھ ٹکا انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق بعض مشتبہ افراد کی نشاندہی ہوئی ہے، لیکن تحقیقات جاری ہیں۔
انٹريم حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے قوم سے خطاب میں عثمان ہادی کی وفات کو قوم کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا، ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا اور قاتلوں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا۔
2024 بنگلا دیش طلبہ احتجاج (کوٹہ ریفارم موومنٹ) کی تفصیلات
2024 کا بنگلا دیش طلبہ احتجاج، جو ابتدائی طور پر کوٹہ ریفارم موومنٹ کے نام سے شروع ہوا، بنگلا دیش کی تاریخ کا ایک اہم اور پرتشدد واقعہ تھا۔ یہ احتجاج سرکاری نوکریوں میں کوٹہ سسٹم کی بحالی کے خلاف شروع ہوا، لیکن جلد ہی حکومت مخالف عوامی بغاوت میں تبدیل ہو گیا، جسے جولائی انقلاب یا جولائی قتل عام بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وزیراعظم شیخ حسینہ کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ ہوا۔
پس منظر اور آغاز
- بنگلا دیش میں سرکاری نوکریوں میں کوٹہ سسٹم 1972 سے موجود ہے، جس میں 30% نوکریاں 1971 کی آزادی کی جنگ کے مجاہدین (مکتی باہینی) کے اولاد کے لیے محفوظ تھیں۔
- 2018 کے احتجاج کے بعد حکومت نے کوٹہ ختم کر دیا تھا، لیکن 5 جون 2024 کو ہائی کورٹ نے اسے بحال کر دیا۔
- طلبہ کا مطالبہ تھا کہ نوکریاں میرٹ پر ہوں، کیونکہ کوٹہ سسٹم کو حکمران جماعت عوامی لیگ کے حامیوں کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا تھا۔
- احتجاج جولائی 2024 میں شدت اختیار کر گیا، جب بائیسماں بیرودھی چھاترا آندولن (Students Against Discrimination) نے قیادت کی۔
اہم واقعات کی ٹائم لائن
- جون-جولائی 2024: پرامن احتجاج شروع، ڈھاکہ یونیورسٹی سمیت مختلف یونیورسٹیوں میں مظاہرے۔
- 14 جولائی: شیخ حسینہ نے مظاہرین کو "رزاکار” (1971 میں پاکستان کے حامی) کہا، جس سے غم و غصہ بڑھا۔
- 15-16 جولائی: حکمران جماعت کی طلبہ ونگ چھاترا لیگ نے مظاہرین پر حملے کیے۔ پولیس نے گولیاں چلائیں، ابو سعید سمیت کئی طلبہ شہید ہوئے۔
- جولائی وسط: شدید تصادم، انٹرنیٹ بند، کرفیو نافذ۔ پولیس، RAB اور فوج کی فائرنگ سے سینکڑوں ہلاکتیں۔
- 21 جولائی: سپریم کورٹ نے کوٹہ کم کر کے 5% کر دیا (93% میرٹ پر)، لیکن احتجاج جاری رہا کیونکہ مطالبات اب حکومت کی استعفیٰ تک پہنچ گئے۔
- اگست 2024: غیر تعاون موومنٹ کا اعلان، لانگ مارچ ٹو ڈھاکہ۔
- 5 اگست 2024: لاکھوں مظاہرین نے گن بھون (وزیراعظم ہاؤس) پر دھاوا بولا۔ شیخ حسینہ ہیلی کاپٹر سے بھارت بھاگ گئیں۔ فوج نے عبوری حکومت کا اعلان کیا۔
ہلاکتیں اور تشدد
- مجموعی ہلاکتوں کی تعداد متنازع ہے: مختلف ذرائع کے مطابق 300 سے 1400 تک (اکثر رپورٹس 600-1000 کے قریب)۔
- جولائی قتل عام کہلاتا ہے، جہاں پولیس اور چھاترا لیگ نے پرامن مظاہرین پر گولیاں، لاٹھی چارج اور تشدد کیا۔
- ہزاروں زخمی، 11,000 سے زائد گرفتاریاں۔
- بچوں سمیت عام شہری بھی متاثر ہوئے (یونیسیف: کم از کم 32 بچے ہلاک)۔
نتائج اور اثرات
- شیخ حسینہ کا استعفیٰ اور جلاوطنی: 15 سالہ دور ختم، بھارت میں پناہ۔
- عبوری حکومت: پروفیسر محمد یونس کی قیادت میں قائم، نئے انتخابات کا وعدہ۔
- کوٹہ سسٹم میں اصلاح: زیادہ تر نوکریاں میرٹ پر۔
- یہ احتجاج بنگلا دیش کی "دوسری آزادی” کہلاتا ہے، جہاں جنریشن Z نے سوشل میڈیا (فیس بک وغیرہ) سے عوام کو متحرک کیا۔
- بعد میں اقلیتیوں پر حملوں کی رپورٹس بھی آئیں، لیکن بنیادی طور پر یہ آمریت مخالف جدوجہد تھی
یہ واقعہ بنگلا دیش کی موجودہ سیاسی کشیدگی کو مزید اجاگر کرتا ہے، جہاں آئندہ انتخابات کے قریب امن و استحکام کی صورتحال نازک ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر عطا کرے۔ آمین۔
















