تحریر: Faheem Akhtar
یہ سوال بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے اندر پوری ایک صدی کا بوجھ چھپا ہوا ہے۔
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
وقت کے ساتھ، سچ کے ساتھ، اور سب سے بڑھ کر اپنے ضمیر کے ساتھ؟
ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں ترقی کے دعوے بہت ہیں، مگر انسانیت کم ہوتی جا رہی ہے۔
عمارتیں اونچی ہو رہی ہیں، مگر کردار پست۔
آوازیں بلند ہیں، مگر بات میں وزن نہیں۔
ہر شخص خود کو درست سمجھتا ہے، مگر اصلاح کے لیے کوئی تیار نہیں۔
یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں سوال کرنا جرم بنتا جا رہا ہے،
اور خاموش رہنا عقلمندی؟
ہم نے سیکھ لیا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں،
بس خود کو بچانا ہے۔
چاہے سچ دب جائے،
چاہے کسی کا حق مارا جائے،
چاہے انصاف سسک سسک کر مر جائے۔
ہم نے اجتماعی ذمہ داری کو ذاتی مصلحت پر قربان کر دیا ہے۔
اور پھر شکوہ بھی کرتے ہیں کہ معاشرہ کیوں بگڑ رہا ہے۔
کیا معاشرہ آسمان سے گرتا ہے؟
یا ہم خود اسے گراتے ہیں؟
آج کا انسان آئینے سے نظریں چرا لیتا ہے۔
اسے الزام تراشی تو آتی ہے، مگر خود احتسابی نہیں۔
وہ کہتا ہے:
“یہ سیاستدان خراب ہیں”
“یہ نظام فیل ہے”
“یہ لوگ ہی برے ہیں”
مگر کبھی یہ نہیں کہتا:
“میں کہاں کھڑا ہوں؟”
ہماری خاموشی نے طاقتور کو بے لگام کر دیا ہے۔
اور ہماری بے حسی نے ظلم کو معمول بنا دیا ہے۔
جب کوئی زیادتی ہوتی ہے تو ہم کہتے ہیں:
“اللہ بہتر کرے گا”
مگر یہ نہیں سوچتے کہ
اللہ بہتر تب کرتا ہے
جب انسان خود کھڑا ہوتا ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں بدل چکے ہیں جہاں:
سچ بولنے والا اکیلا رہ جاتا ہے
اصولوں والا مشکل میں پڑ جاتا ہے
اور سمجھوتہ کرنے والا کامیاب کہلاتا ہے
یہ کیسی کامیابی ہے
جس کی بنیاد خوف پر ہو؟
نوجوان سوال کرتا ہے تو اسے باغی کہا جاتا ہے۔
وہ خواب دیکھے تو اسے نادان سمجھا جاتا ہے۔
اور جب وہ خاموش ہو جائے
تو ہم کہتے ہیں:
“یہ نسل بے حس ہے”
ہم خود ان کی آواز دباتے ہیں،
پھر شکوہ کرتے ہیں کہ وہ بولتے کیوں نہیں۔
اصل خطرہ یہ نہیں کہ حالات خراب ہیں،
اصل خطرہ یہ ہے کہ ہم نے حالات کو قبول کر لیا ہے۔
ہم نے ناانصافی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے۔
ہم نے جھوٹ کو مجبوری اور سچ کو مسئلہ بنا لیا ہے۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے
جہاں قومیں زوال کی طرف بڑھتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے:
جب قومیں سوال کرنا چھوڑ دیتی ہیں،
تو فیصلے ان کے خلاف ہونے لگتے ہیں۔
اور جب قومیں خاموش رہتی ہیں،
تو ان کی قسمت کے فیصلے کوئی اور لکھتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ
ہر بار بولنا نقصان نہیں ہوتا،
اور ہر بار چپ رہنا فائدہ نہیں دیتا۔
کچھ آوازیں اگر وقت پر بلند ہو جائیں
تو آنے والے طوفان رک سکتے ہیں۔
تبدیلی نعروں سے نہیں آتی،
تبدیلی شعور سے آتی ہے۔
اور شعور وہیں پیدا ہوتا ہے
جہاں انسان سچ سننے کا حوصلہ رکھتا ہو
اور سچ بولنے کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہو۔
ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا:
اگر آج بھی ہم خاموش رہے
تو کل ہمیں بولنے کا حق کس بنیاد پر ہوگا؟
کیونکہ حق وہی مانگ سکتا ہے
جو کل اس کے لیے کھڑا ہوا ہو۔
آخر میں بس اتنا کہنا ہے:
قومیں زمین پر نہیں مرتیں،
وہ ضمیر کے مرنے سے ختم ہوتی ہیں۔
اور ضمیر صرف ایک چیز سے زندہ رہتا ہے:
سچ کے ساتھ کھڑے ہونے سے۔
✍️ تحریر:
Faheem Akhtar
(کالم نگار)










