اسلام آباد پاکستان کی معروف ماہرِ نفسیات اور سماجی میڈیا پر سرگرم شخصیت ڈاکٹر نبیہا علی خان نے اپنے نکاح کے بعد ہونے والی تنقید اور مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے کی جانب سے کیے گئے تنقیدی بیان پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ “مولانا طارق جمیل صاحب صرف آپ کے باپ نہیں بلکہ میں بھی ان کو اپنا والد سمجھتی ہوں۔”
ڈاکٹر نبیہا نے یہ ردعمل ایک تفصیلی ویڈیو پیغام اور سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے دیا، جس میں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی پر کی جانے والی بے جا تنقید پر شدید افسوس اور حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نکاح کے بعد سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم سوچی سمجھی سازش کا حصہ لگتی ہے جو نہ صرف ان کی ساکھ بلکہ ان کے پیشہ ورانہ وقار کو نقصان پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ “میڈیا پر میرے نکاح کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے وہ سراسر غیر منصفانہ ہے۔ لوگوں کی ذاتی زندگیوں کو نشانہ بنانا کسی بھی طور اخلاقی نہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ سوشل میڈیا پر میری نجی زندگی کو موضوعِ تضحیک بنایا جا رہا ہے۔”
انہوں نے اس مہم کو “بے بنیاد پروپیگنڈا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ مخصوص سوشل میڈیا پیجز اور چینلز اس خبر کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں تاکہ ریٹنگ حاصل کی جا سکے۔ ڈاکٹر نبیہا کا کہنا تھا کہ وہ ایسے تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جو ان کی تصاویر اور ذاتی ویڈیوز کو غلط انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “میں مولانا طارق جمیل صاحب کو اپنے باپ کی طرح عزت دیتی ہوں۔ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ محبت، رواداری اور دینِ اسلام کی اصل روح کو اجاگر کیا۔ ان کے بارے میں غلط انداز میں بات کرنا یا ان کی عزت پر سوال اٹھانا انتہائی افسوسناک ہے۔”
مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے کو مخاطب کرتے ہوئے ڈاکٹر نبیہا نے کہا، “مولانا صاحب صرف آپ کے والد نہیں بلکہ میں بھی انہیں اپنا والد تصور کرتی ہوں۔ ان کے ساتھ میرا تعلق خلوص، احترام اور روحانی وابستگی پر مبنی ہے، جسے کسی منفی مہم کے ذریعے داغدار نہیں کیا جا سکتا۔”
ڈاکٹر نبیہا نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ان کے نکاح کی تقریب میں چند گانوں کی موجودگی کو جواز بنا کر ان پر الزام تراشی کی جا رہی ہے، حالانکہ وہ تقریب ایک سادہ اور باوقار انداز میں منعقد ہوئی۔ انہوں نے کہا، “میں نے کسی مقام یا روایت کی بے حرمتی نہیں کی۔ اگر کسی کو کوئی اعتراض تھا تو وہ مجھے براہِ راست پوچھ سکتا تھا، نہ کہ عوامی سطح پر الزامات لگائے جاتے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “جو انفلوئنسرز اور یوٹیوبرز میری تصویروں اور ویڈیوز کو اپنی ویڈیوز میں استعمال کر کے ڈرامہ بنا رہے ہیں، وہ خبردار ہو جائیں۔ میں ان سب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے جا رہی ہوں تاکہ آئندہ کسی کی عزت کے ساتھ اس طرح کا کھیل نہ کھیلا جا سکے۔”
ڈاکٹر نبیہا نے یہ بھی کہا کہ “مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مولانا طارق جمیل صاحب کے گھر پر لوگ کیوں جمع ہوئے؟ اور ان کے خلاف باتیں کیوں کی گئیں؟ مولانا صاحب ایک انتہائی محترم اور دین دار شخصیت ہیں، جنہیں ہر کوئی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کے نام کو اس طرح منفی رنگ میں پیش کرنا سراسر زیادتی ہے۔”
ڈاکٹر نبیہا علی خان کا بیان اس تنازعے میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے نکاح سے متعلق پھیلنے والی غلط فہمیوں کو واضح کیا بلکہ اپنی بات انتہائی باوقار اور مدلل انداز میں پیش کی۔ ان کا مؤقف یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس معاملے کو جذبات کے بجائے ادب اور دلیل سے حل کرنا چاہتی ہیں۔
دوسری جانب، یہ واقعہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں ذاتی زندگیوں پر حملہ اب معمول بنتا جا رہا ہے۔ کسی بھی فرد کی نجی زندگی پر تبصرہ کرنے سے پہلے صحافتی ضابطے اور اخلاقی اقدار کو پیشِ نظر رکھنا لازمی ہے۔ ڈاکٹر نبیہا نے اس تنازعے کو جس نرمی اور متانت کے ساتھ سنبھالا، وہ ان کے پیشہ ورانہ تدبر اور عزتِ نفس کا مظہر ہے۔
عوامی سطح پر ڈاکٹر نبیہا کے بیان کے بعد ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے ان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ “ہر شخص کو اپنی نجی زندگی جینے کا حق ہے، اسے تماشہ نہ بنایا جائے۔”
دوسری جانب کچھ حلقوں نے ان سے مزید وضاحت مانگی ہے تاکہ معاملے کی مکمل حقیقت سامنے آسکے۔ تاہم، زیادہ تر صارفین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مولانا طارق جمیل جیسی مذہبی شخصیت کو تنازعات میں گھسیٹنا افسوسناک اور غیرضروری ہے۔
















