اسلام آباد کی سیاسی راہداریوں میں ایک نئی ہلچل ہے، جہاں وفاقی حکومت 27ویں آئینی ترمیم کی تیاریوں میں مصروف ہے، جو آرٹیکل 243 میں تبدیلی لا کر آرمی چیف کو دیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دے گی۔ یہ ترمیم معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابیوں کے اعتراف میں آرمی چیف کی خدمات کو آئین میں شامل کرنے کا مقصد رکھتی ہے، جو 1973 کے آئین میں پہلی بار فیلڈ مارشل کے رینک کو تسلیم کرے گی۔ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے نجی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ترمیم پر بات چیت جاری ہے، مگر باضابطہ کام ابھی شروع نہیں ہوا، اور اس میں آئینی عدالتوں کا قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی ڈسٹرکٹ لیول پر بحالی، ججز کے تبادلے کا اختیار اور پورے ملک میں یکساں نصاب کا نفاذ بھی زیر غور ہے۔
دوسری طرف، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی پی سے ترمیم کی حمایت مانگی ہے، جو این ایف سی میں صوبائی شیئرز کے تحفظ کا خاتمہ، تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کو وفاق میں واپس لانا، اور الیکشن کمیشن کی تقرریوں پر تعطل ختم کرنا بھی شامل کرتی ہے۔ پی پی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی 6 نومبر کو فیصلہ کرے گی، جو اس ترمیم کو پارلیمان میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت کو پورا کرنے کی طرف ایک اہم موڑ بنا رہی ہے۔
یہ ترمیم 26ویں ترمیم کے ایک سال بعد آ رہی ہے، جو عدلیہ اور فوجی امور میں توازن کی نئی جہت کھول سکتی ہے، اور سیاسی اتحادوں کو نئی آزمائش دے رہی ہے۔
آرٹیکل 243 کی تبدیلی
ترمیم کا مرکزی نکتہ آرٹیکل 243 میں تبدیلی ہے، جو مسلح افواج کی کمان سے متعلق ہے، اور اس کا مقصد آرمی چیف کو معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابیوں پر دیا گیا فیلڈ مارشل کا رینک آئین میں شامل کر کے اسے قانونی تحفظ دینا ہے۔ بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ یہ ترمیم آئین میں پہلی بار فیلڈ مارشل کے عہدے کو تسلیم کرے گی، جو آرمی چیف کی خدمات کو مستقل شناخت دے گی۔ یہ قدم فوجی قیادت کی تنخواہ، اختیارات اور مدت ملازمت کو آئینی دائرے میں لا رہا ہے، جو سیاسی تنازعات سے بچاؤ کا ذریعہ بنے گا۔
یہ تبدیلی فوج اور سویلین حکومت کے توازن کو نئی شکل دے سکتی ہے، جو آرمی چیف کی مدت کو 28 نومبر 2025 کے بعد بھی محفوظ بنا رہی ہے۔
آئینی عدالتیں اور مجسٹریٹس
مجوزہ ترمیم میں آئینی عدالتوں کا قیام سب سے اہم ہے، جو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس سے الگ آئینی امور سنبھالے گی۔ بلاول بھٹو نے بتایا کہ اس میں ججز کے تبادلے کا اختیار اور ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی ڈسٹرکٹ لیول پر بحالی شامل ہے، جو مقامی سطح پر عدالتی نظام کو مضبوط کرے گی۔ یہ قدم عدلیہ کی کارکردگی بڑھانے اور آئینی مقدمات کی جلد سماعت کا وعدہ کرتا ہے، جو ججز کی تعیناتیوں میں شفافیت لائے گا۔
یہ تجاویز عدلیہ کی آزادی اور کارکردگی کو نئی جہت دیں گی، جو سیاسی دباؤ سے آزاد عدالتیں قائم کر سکتی ہیں۔
صوبوں کی خودمختاری پر سوالات
بلاول بھٹو کے مطابق، ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ میں صوبائی شیئرز کے تحفظ کا خاتمہ، تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کو وفاق میں واپس لانا، اور الیکشن کمیشن کی تقرریوں پر تعطل ختم کرنا شامل ہے۔ یہ نکات 18ویں ترمیم کی روح کو چیلنج کر رہے ہیں، جو صوبائی خودمختاری کو کمزور کر سکتے ہیں۔ پورے ملک میں یکساں نصاب کا نفاذ بھی زیر غور ہے، جو تعلیمی یکسانیت کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتا ہے۔
یہ تجاویز وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کریں گی، مگر صوبوں کی حقوق پر تنازع کھڑا کر سکتی ہیں۔
بلاول کا انکشاف
بلاول بھٹو زرداری نے ایکس پر پوسٹ کر کے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ن لیگ کا وفد صدر زرداری سے ملا اور ترمیم کی حمایت مانگی۔ پی پی کی سی ای سی 6 نومبر کو دوحہ سے واپسی پر اجلاس کر کے فیصلہ کرے گی، جو اتحادی سیاست کی نئی کہانی لکھے گی۔ بلاول نے تمام تجاویز شیئر کر کے شفافیت کا مظاہرہ کیا، جو پارٹی کی پوزیشن کو مضبوط کر رہا ہے۔
یہ ملاقات اتحادی حکومت کی استحکام کی طرف ایک اہم قدم ہے، جو ترمیم کی کامیابی کی کنجی ہے۔
عوامی رائے
اس خبر نے سوشل میڈیا پر شدید بحث چھیڑ دی ہے، جہاں لوگ فیلڈ مارشل کے آئینی تحفظ کی حمایت کر رہے ہیں مگر NFC شیئرز کے خاتمے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #27thAmendment ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات آئین میں شامل، فوج زندہ باد!” دوسرے نے کہا: "صوبائی شیئرز ختم؟ 18ویں ترمیم کی روح کو نقصان!”
عوام نے آئینی عدالتوں کی تعریف کی: "ججز تبادلے، عدلیہ مضبوط ہوگی!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات تقسیم ہیں، جو فوج کی حمایت اور صوبائی حقوق کی حفاظت کی مانگ کر رہے ہیں۔
27ویں آئینی ترمیم وفاقی حکومت کی ایک جرات مندانہ کوشش ہے، جو آرٹیکل 243 میں تبدیلی لا کر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے رینک کو آئینی تحفظ دے گی، جو معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابیوں کا اعتراف ہے اور آرمی چیف کی مدت کو 2025 کے بعد محفوظ بنائے گی۔ آئینی عدالتوں کا قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی اور ججز تبادلے عدلیہ کو نئی شکل دیں گے، جبکہ این ایف سی شیئرز کا خاتمہ اور تعلیم کی واپسی صوبائی خودمختاری کو چیلنج کر رہی ہے۔ بلاول کی طرف سے پی پی کی حمایت کی مانگ اور سی ای سی اجلاس اتحادی سیاست کی کشمکش کو اجاگر کر رہا ہے۔ عوامی سطح پر، فوج کی خدمات کی حمایت غالب ہے مگر صوبائی حقوق پر تشویش ہے، جو ترمیم کو متنازع بنا رہی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ ترمیم سویلین فوجی توازن، عدلیہ کی آزادی اور وفاقی ڈھانچے کو نئی جہت دے سکتی ہے، مگر پارلیمانی اتفاق رائے اور صوبائی رضامندی کے بغیر تنازعات کو جنم دے گی، جو پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم باب بن سکتی ہے۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔
















