ایران کے خلیج فارس میں واقع خوبصورت جزیرہ ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ دسمبر 2025 کی حالیہ شدید بارشوں کے بعد اس کے ساحل اور سمندری پانی گہرے سرخ رنگ میں ڈھل گئے، جو دیکھنے میں ایسا لگتا ہے جیسے خون کی ندیاں بہہ رہی ہوں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر نے لوگوں کو حیران کر دیا، اور کئی صارفین نے اسے "خون کی بارش” سے تعبیر کیا۔

تاہم، ماہرینِ ارضیات اور ماحولیات کے مطابق یہ کوئی مافوق الفطرت یا خطرناک واقعہ نہیں، بلکہ ایک خالصاً قدرتی جغرافیائی عمل ہے۔ جزیرہ ہرمز کی مٹی میں ہیماٹائٹ نامی معدنیات کی کثرت ہے، جو آئرن آکسائیڈ سے بھرپور ہوتی ہے۔ بارش کا پانی جب اس سرخ مٹی سے گزرتا اور بہتا ہے تو آئرن آکسائیڈ کے ذرات پانی میں مل جاتے ہیں، جس سے ساحل، ندی نما دھارے اور سمندر کا کنارہ گہرا سرخ ہو جاتا ہے۔ یہ منظر خاص طور پر شدید بارشوں کے بعد زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔

جزیرہ ہرمز کو "رینبو آئی لینڈ” (قوس قزح کا جزیرہ) بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہاں سرخ کے علاوہ پیلا، نارنجی، سنہری، چاندی جیسا اور متعدد دیگر رنگوں والی مٹی اور چٹانیں موجود ہیں۔ یہ رنگ ہزاروں سال کی آتش فشاں سرگرمیوں، نمک کے گنبدوں اور معدنی جمع ہونے کا نتیجہ ہیں، جو اسے دنیا کے منفرد قدرتی عجائبات میں شامل کرتے ہیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سرخ رنگت کسی آلودگی، ماحولیاتی تباہی یا صحت کے لیے خطرے کی علامت بالکل نہیں۔ بلکہ یہ جزیرے کی قدرتی خوبصورتی کا حصہ ہے، جو سائنسدانوں، فوٹوگرافروں اور سیاحوں کو مسحور کرتی ہے۔ مقامی لوگ اس سرخ مٹی (جسے "گلک” کہتے ہیں) کو کاسمیٹکس، رنگوں اور روایتی مصالحوں میں بھی استعمال کرتے ہیں۔
حالیہ وائرل ویڈیوز نے ایک بار پھر ہرمز کو دنیا بھر کے فطرت پرستوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ قدرت کے یہ حیرت انگیز مناظر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کائنات میں کتنے راز چھپے ہیں، جو حقیقت میں افسانوں سے بھی زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں۔
قدرت کا ایک حیرت انگیز شاہکار
ایران کے خلیج فارس میں واقع جزیرہ ہرمز، جو "رینبو آئی لینڈ” کے نام سے مشہور ہے، ایک قدیم نمک کا گنبد (سالٹ ڈوم یا ڈائیپیر) ہے جو کروڑوں سال کی جغرافیائی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ جزیرہ خود کوئی فعال آتش فشاں نہیں، بلکہ اس کی ساخت میں قدیم آتش فشاں چٹانیں اور مواد شامل ہیں جو اسے دنیا کے منفرد قدرتی عجائبات میں شامل کرتے ہیں۔


قدیم دور کی آتش فشاں سرگرمیاں
- جزیرے کی جغرافیائی عمر تقریباً 600 ملین سال پرانی ہے (پری کیمبرین دور سے)، جبکہ یہ سمندر سے باہر آیا تقریباً 50 ہزار سال پہلے۔
- سائنسی تحقیقات (جیسے 2015 کی ایک سٹڈی میں زرکون ڈیٹنگ سے) بتاتی ہیں کہ یہاں نیوپروٹروزوئک/ابتدائی کیمبرین دور (تقریباً 558 ± 7 ملین سال پہلے) میں رائولائٹ نامی تیزابی آتش فشاں چٹانوں کا پھٹاؤ ہوا تھا۔
- یہ volcanism کیڈومین آرک میگمیٹزم سے منسلک تھا، جو قدیم گونڈوانا براعظم کے کنارے پر ایک volcanic arc سیٹنگ میں ہوا۔ اس دور میں evaporites (نمک کی تہیں)، carbonates اور volcanic rocks ایک ساتھ جمع ہوئے۔


نمک کے گنبد کی تشکیل
- کروڑوں سال پہلے اتھلے سمندروں میں موٹی نمک کی تہیں جمع ہوئیں۔
- بعد میں یہ تہیں volcanic اور sedimentary مواد سے دب گئیں۔ نمک کی پلاسٹک نوعیت کی وجہ سے (جیسے برف کی طرح بہہ سکتا ہے)، اوپر کی تہوں کے دباؤ سے یہ نمک دراڑوں سے اوپر اٹھتا رہا اور سالٹ ڈوم بنا۔
- یہ عمل ہزاروں سالوں میں جاری رہا، جس سے volcanic rocks، hematite (آئرن آکسائیڈ سے بھرپور سرخ مٹی)، gypsum اور دیگر معدنیات سطح پر آ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ جزیرہ سرخ، پیلے، نارنجی، سنہری اور متعدد رنگوں سے بھرا نظر آتا ہے۔

موجودہ دور میں کوئی آتش فشاں سرگرمی نہیں
- آج کل جزیرہ مکمل طور پر غیر فعال ہے۔ کوئی حالیہ پھٹاؤ یا submarine volcano کی تصدیق نہیں۔
- بارش کے بعد سرخ رنگت (جیسے "خون کی بارش”) صرف hematite والی مٹی کے پانی میں گھلنے سے ہوتی ہے، جو قدیم volcanic مواد کا باقیات ہے۔
یہ جزیرہ ماہرینِ ارضیات کا "جنت” کہلاتا ہے، کیونکہ یہ زمین کی کروڑوں سالہ تاریخ کو ایک جگہ پر سمیٹے ہوئے ہے۔ نمک کی غاریں، رنگین پہاڑ، سرخ ساحل اور volcanic formations اسے سیاحت اور سائنس دونوں کے لیے مثالی بناتے ہیں۔
اگر آپ بھی یہاں کا دورہ کرنا چاہیں تو بارش کے سیزن میں جائیں – شاید آپ بھی اس جادویی منظر کے گواہ بن جائیں! 😊
















