عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی چمک تو برقرار ہے، مگر اس کی قیمت عام آدمی کی دسترس سے روز بروز دور ہوتی جا رہی ہے۔ 20 دسمبر 2025 کو ایک بار پھر سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سرمایہ کاروں کے لیے خوشخبری مگر زیورات خریدنے والوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 13 ڈالر کے اضافے سے نئی بلند سطح پر پہنچ گئی اور 4,338 ڈالر تک جا پہنچی۔ یہ مسلسل تیزی عالمی معاشی عدم استحکام، شرح سود میں ممکنہ کٹوتیوں اور محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رجحان کی عکاسی کر رہی ہے۔


اس عالمی اضافے کے اثرات پاکستان میں بھی فوری طور پر نظر آئے۔ ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت 1,300 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 56 ہزار 162 روپے کی ریکارڈ سطح پر آ گئی۔ اسی طرح فی 10 گرام سونا 1,115 روپے مہنگا ہو کر 3 لاکھ 91 ہزار 085 روپے کا ہو گیا۔

2025 کا سال سونے کے لیے غیر معمولی رہا، جہاں قیمتوں نے نئی بلندیوں کو چھوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان آنے والے دنوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے، خاص طور پر جیو پولیٹیکل تناؤ اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے۔
سونے کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات2025 کا جائزہ
2025 سونے کے لیے ایک تاریخی سال رہا، جہاں عالمی قیمت فی اونس 4,300 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور سالانہ اضافہ 60% سے زائد ریکارڈ کیا گیا – جو 1979 کے بعد سب سے بڑا سالانہ منافع ہے۔ یہ تیزی محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس مسلسل اضافے کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں:



1. جیو پولیٹیکل تناؤ اور محفوظ پناہ کی تلاش
عالمی سطح پر جاری تنازعات (جیسے یوکرین، مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقائی کشیدگی) نے سرمایہ کاروں کو سونے کی طرف راغب کیا۔ سونا "سیف ہیون” اثاثہ مانا جاتا ہے، جو بحران کے وقت قدر برقرار رکھتا ہے۔

2. امریکی ڈالر کی کمزوری اور فیڈرل ریزرو کی پالیسی
امریکی فیڈرل ریزرو نے 2025 میں متعدد بار شرح سود کم کی، جس سے ڈالر کی قدر گر گئی۔ کم شرح سود سونے کو زیادہ پرکشش بناتی ہے کیونکہ یہ کوئی منافع نہیں دیتا، مگر کم شرح والے ماحول میں یہ بہتر آپشن بن جاتا ہے۔
3. سینٹرل بینکوں کی ریکارڈ خریداری
ابھرتی ہوئی معیشتوں (خاص طور پر چین، بھارت اور دیگر) کے سینٹرل بینکوں نے سونے کی بڑے پیمانے پر خریداری کی، جو ڈی ڈالرائزیشن اور اثاثوں کی تنوع کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ 2025 میں یہ خریداریاں اب بھی بلند سطح پر ہیں۔
4. سرمایہ کاروں کی مانگ (ETFs اور فزیکل گولڈ)
گولڈ ETFs میں ریکارڈ انفلو، بارز اور سکوں کی خریداری، اور پرائیویٹ سیکٹر کی دلچسپی نے قیمتوں کو مزید بلند کیا۔


5. ٹریڈ تنازعات اور معاشی عدم استحکام
امریکی ٹیرف پالیسیاں، عالمی تجارت کی کشیدگی اور مہنگائی کے خدشات نے سونے کو انفلیشن ہیج کے طور پر مضبوط کیا۔
ماہرین (جیسے Goldman Sachs، J.P. Morgan اور World Gold Council) کے مطابق یہ رجحان 2026 میں بھی جاری رہ سکتا ہے، جہاں قیمت 4,900 سے 5,000 ڈالر تک جا سکتی ہے۔
















